مڈکیری:15/ستمبر(ایس اؤ نیوز)ایم پی بنے پرتاپ سنہا کسی کے رحم وکرم سے لوک سبھا کاانتخاب جیت کر ایم پی بنے ہیں، بس اتنا ہی ، اس کے علاوہ ان کی سماجی خدمات کیا ہیں؟بہتر ہے میرے خلاف الزام تراشی نہ کریں تو پارٹی اور ملک کے لئے اچھا ہی ہوگا۔میں نے ضلع کے متاثرہ اور رنجیدہ عوام کی حمایت میں بات کی ہے، جب کہ ایم پی نے جو ناسمجھی کی باتیں کی ہیں اس سے ان کے خاندان کا پتہ چلنے کی بات کہتے ہوئے بی جے پی کے سنئیر لیڈر ایم بی دیویا نے پلٹ وار کیا ہے۔
پرتاپ سنہا کی طرف سے فیس بک پر پوسٹ کئے گئے بیان پر سنیچر کو دیویانے پریس کانفرنس کے ذریعے ایم پی پرتاپ سنہا کو کھری کھری سنائی ۔ دیویا نے کہاکہ اس کے ہاتھوں مارکھانے والا بے قوف نہیں ہوں، میں نہ گاندھی وادی ہوں اور نہ دوسرا گال پیش کرنے والا ڈرپوک ہوں ، طاقت ہے تو مجھے چھو کر دیکھیں ، تب دیویا ، کورگ کے لوگ کیا ہیں پتہ چلے گا۔ اگر وہ اپنے باپ کا بیٹا ہے تو ضلع میں میرا سامنا کرکے دیکھ لے ، کہتے ہوئے دیویا نے ایم پی کو کھلا چیلنج دیا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے دیویا نے کہا کہ مجھے اس وقت 68سال ہیں، اس کی عمر میرے بیٹے کی ہے، پارٹی کا ایم پی جب غیر ذمہ دارانہ حرکت کرتاہے تو اس کو ٹھیک کرنا میرا فرض ہے ، ہیبٹ گیری میں غلط الفاظ استعمال کرنے سے انہوں نے صاف انکار کیا۔ اور ایم پی کو متنبہ کیا کہ اگر وہ الزام تراشی جاری رکھا تو میں بھی وہی راستہ اپنانا مجبوری ہوگی، اگر یہیں چھوڑدیں تو اس کی ترقی کے لئے بہتر ہونے کی بات کہی۔
مرکزی جانچ ٹیم کے دورے کے وقت ایم پی کے رویہ سے ناراض دیویا نے ایم پی کو آڑے ہاتھوں لیاتھا، جس پر ایم پی نے اپنے فیس بک وال پر جواب دیتے ہوئے کہاہے کہ میں عوام کے درمیان رہتاہوں ، ایسی بے وقوفانہ باتیں سہنا ہوتاہے، چھوٹی عمر کا ہوں تو بلا کر عقل کی بات کہنی تھی ۔ وہ اب بوڑھے ہونے کی بات کہتے ہوئےبلواسطہ متنبہ بھی کیا ہے کہ ان کی عمر کو عزت دے کر خاموش ہوں ۔ فیس بک پر ایم پی نےدیویا کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بزرگ کے متعلق ضلع کے سبھی عوام جانتےہیں۔ مڈکیری میں غلط بات کہنے والے فرد کو اچھا ہی ہونے والاہے۔ ودھان سبھا انتخابات سے قبل رکن اسمبلی ایم پی اپچورنجن کو اسی شخص نے تنقید کی تھی ، جب جیت حاصل کی تو ’’رنجن بھیا ‘‘ کہتے ہوئے ہاتھ جوڑا تھا۔